گورے رنگ کا زمانہ آخر کب ہوگا پرانا؟

801

ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، لیکن ہماری اکثریت ابھی بھی لاشعوری طور پر گوری رنگت کی اسیر ہے—۔فوٹو: بشکریہ ایڈمز جونز/ وکی میڈیا کامنز

ابھی کچھ عرصہ پہلے کی ہی بات ہے جب ملک کے ایک معروف نجی چینل پر نشر ہونے والے مارننگ شو کی میزبان نے شو میں جاری مقابلے کو نیا اور منفرد موڑ دینے کی کوشش کی۔ اب انہوں نے تو یہ کوشش اس نیت سے کی تھی کہ شاید ان پر تعریف و تحسین کے ٹوکرے برسائے جائیں گے، لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا اور مذکورہ میزبان اور شو کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

شو کی میزبان گہری اور سانولی رنگت والی لڑکیوں کی ایک ‘بڑی مشکل’ حل کرتے ہوئے یہ بتانا چاہتی تھیں کہ انہیں شادی پر کیسا میک اپ کروانا چاہیے اور ان کا بناؤ سنگھار کیسا ہونا چاہیے؟ اور یہ کہ سانولی رنگت پر بات کرنے میں برائی کیا ہے؟ لیکن ہوا کچھ یوں کہ انہوں نے سانولا رنگ دکھانے کے لیے ماڈلز کی جلد کی رنگت کو مصنوعی طریقے سے مزید گہرا یعنی ڈارک کر ڈالا۔

جب یہ تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آئیں تو معاملہ یہ تھا کہ ہاتھوں کی رنگت کچھ تھی اور چہرے کی کچھ اور جبکہ میزبان خاتون مسرور تھیں کہ انہوں نے اپنے شو کے ذریعے سانولی رنگت والی لڑکیوں کی مشکل آسان کردی ہے۔

کیا واقعی یہ مشکل ‘آسان’ کرنا تھا؟ مشکل تو یوں آسان ہوتی کہ اس موضوع پر ڈھنگ کی کوئی نئی بات ہوتی، ناظرین کو قائل کرنے کی کوشش کی جاتی کہ سانولا یا گورا رنگ اہم نہیں بلکہ لڑکی کی تعلیم، ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا اور اس کی ذہنی و جسمانی صلاحیتیں اہم ہیں۔ رنگت کو یوں زیرِ بحث لانا کسی بھی طرح تہذیب کی علامت نہیں، بلکہ اس ‘کوشش’ سے معاشرے کی اکثریت کے لاشعور میں چھپی گوری رنگت کی چاہ چھلک چھلک رہی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں قابلیت اور صلاحیت کا وہ مول نہیں جو ‘گوری رنگت’ کا ہے۔ اب تو رنگ گورا کرنے والے ٹیکوں جیسی خرافات بھی مارکیٹ میں آچکی ہیں۔ بے تحاشا کریمیں نت نئے ناموں کے ساتھ دستیاب ہیں اور لڑکیاں رنگ صاف کرنے کے نام پر ان چیزوں کا بے دھڑک استعمال کر رہی ہیں۔

اسی رنگت کے چکر میں کئی لڑکیاں احساس کمتری کا شکار ہیں، کئی کو آس پاس والوں نے کہہ کہہ کر مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ کہیں ‘بیٹے کے لیے چاند سی بہو لے کر آنی ہے’ کی گردان ہے تو کسی کو ‘چاند کا ٹکڑا لڑکی’ چاہیے اور کسی کی ڈیمانڈ ہے کہ ‘حسن ایسا ہو جو دیکھنے والے کو حیران کر دے’۔

واقعی رنگ گورا کرنا ایک ایسا نشہ ہے جسے پورا کرنے کا سامان محلے کی کریانے کی دکان سے لے کر شہر کے سب سے بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور تک میں دستیاب ہے۔ ان کریموں کے اجزائے خاص میں ایک تو اسٹیرائیڈ ہے، جس کو استعمال کرنے سے پہلے پہل تو بڑا اعلیٰ نتیجہ آتا ہے اور شرطیہ سات دن میں رنگ گورا ہوجاتا ہے، لیکن جیسے ہی ان کا استعمال چھوڑ دیا جائے تو رنگت پہلے جیسی ہو جاتی ہے اور مجبوراً اس کا استعمال جاری رکھنا پڑتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں جلد کو نقصان الگ پہنچتا ہے۔

دوسری چیز بلیچنگ ایجنٹ ہے، جس کا استعمال مہذب ممالک میں ممنوع ہے، لیکن غریب ملک کے شہریوں کو تو صرف سستے میں رنگ گورا کرنا ہے، چاہے وہ بعد میں مہنگا ہی کیوں نا پڑ جائے۔

تیسری چیز مرکری ہے، جس کا استعمال گردوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن اگر گردے کام کرنا چھوڑ دیں گے تو ہم کبھی یہ تحقیق کریں گے کہ یہ کیسے ہوا؟ یا گوری رنگت سے ناکارہ گردے بھی سنبھل جائیں گے؟

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی رنگت کے مسائل سے باہر نکل سکتے ہیں؟ ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، یہ نیا دور ہے، اس کے اپنے تقاضے ہیں لیکن ہماری اکثریت ابھی بھی لا شعوری طور پر گوری رنگت کی ہی اسیر ہے۔

لیکن واقعی اب اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے، گوری رنگت کسی لڑکی کو اور اس کی خوبیوں کو مکمل طور پر جانچنے کا پیمانہ ہرگز نہیں ہوسکتا، آخر ‘چٹی کلائیوں’ اور ‘گورے رنگ کا زمانہ’ کب پرانا ہوگا!

رامش فاطمہ ڈاکٹر ہیں اور @Ramish28 پر ٹوئیٹ کرتی ہیں۔ 

via [geo]